اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کی سیاسی کوآرڈینیٹر، گل قیصر سروانی نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے انہوں نے عالمی ادارے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے 27 اکتوبر 2026 کو نیویارک، امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ معلومات X/@PakistanUN_NY کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔
پاکستانی سفیر سروانی نے زور دیا کہ ویٹو پاور کا بے جا استعمال عالمی ادارے کو “اداراتی مفلوجیت” کا شکار کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ اہم عالمی چیلنجز اور تنازعات پر مؤثر طریقے سے کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اقوام متحدہ کے بنیادی مقاصد کو کمزور کرتی ہے اور عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اس کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ویٹو پاور میں توسیع کے بجائے اس کے استعمال کو محدود کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اسے مزید جمہوری، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ویٹو پاور کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی برادری کو درپیش سنگین مسائل، جیسے کہ تنازعات، انسانی بحران اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے میں حائل ہوتی ہیں۔ پاکستان کا یہ مطالبہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی فعالیت اور اس کی فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانے کی وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔



