تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، ایسے وقت میں جب خطے میں ایک اور تباہ کن فوجی تصادم کے بڑھتے ہوئے خدشات موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کر دے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی امید جگاتی ہے۔
اس نئی امن کوشش میں پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جو دونوں متحارب فریقین کے درمیان رابطے کا پل بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، اس تجویز پر ایرانی ذرائع کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جس سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک واقعی کسی ٹھوس سفارتی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ ان متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
خطے میں ایک اور بڑے فوجی حملے کے منڈلاتے خطرے کے پیش نظر، پاکستان کی یہ ثالثی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک کلیدی راستہ ہے اور اس کی بندش یا ناکہ بندی عالمی معیشت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس لیے، کسی بھی سفارتی کامیابی سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی امن کو بھی فروغ ملے گا، اور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
