حالیہ دنوں میں پاکستان کے افغانستان میں کیے گئے فضائی حملوں نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، کچھ حلقے ان حملوں کا موازنہ بھارت کی ماضی میں پاکستان کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے کر رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق دونوں صورتحال میں ایک اہم اور واضح قانونی فرق موجود ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت، ایک ریاست کو حقِ خود دفاع حاصل ہے جب اسے کسی دوسری ریاست کی سرزمین سے غیر ریاستی عناصر کی جانب سے مسلح حملے کا سامنا ہو۔ یہ حق خاص طور پر اس وقت زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جب میزبان ریاست (اس صورت میں افغانستان) ان غیر ریاستی عناصر کو کنٹرول کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کرنے میں “نااہل یا غیر راضی” (unwilling or unable) ہو۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں یا تو نااہل ہے یا غیر راضی، جس کی وجہ سے پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، خاص طور پر جب انہیں فوری خطرے کا سامنا ہو۔
اس کے برعکس، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ماضی میں کی گئی کارروائیوں کو پاکستان بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیتا ہے۔ بھارت نے جو حملے کیے، وہ اکثر پاکستان کی خودمختار ریاست کے خلاف تھے اور ان کا مقصد پاکستان کو سزا دینا تھا۔ ان کارروائیوں میں “نااہل یا غیر راضی” ریاست کا اصول لاگو نہیں ہوتا تھا، کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بھارت کی کارروائیاں اکثر پاکستان کی خودمختاری کی براہ راست خلاف ورزی سمجھی جاتی تھیں، جس میں ریاستی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
لہٰذا، پاکستان کے افغانستان میں حالیہ حملوں اور بھارت کی ماضی کی کارروائیوں کے درمیان قانونی بنیاد، محرکات اور بین الاقوامی قانون کے اطلاق کے لحاظ سے واضح فرق موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرحد پار کارروائیاں ہمیشہ حساس ہوتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ان پر بحث ہوتی ہے، لیکن ہر صورتحال کو اس کے مخصوص قانونی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کے حالیہ اقدامات کو حقِ خود دفاع کے اصول کے تحت دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی کارروائیوں کو اکثر خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔



