پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ شروع ہوگیا ہے، جو ملک کی معاشی صورتحال کے لیے تشویشناک ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، صرف تین ماہ کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں میں 1242 ارب روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے دعوے کر رہی تھی۔
تفصیلات کے مطابق، یہ اضافہ مالی سال کے ابتدائی تین ماہ (جولائی تا ستمبر) کے دوران ہوا ہے۔ اس عرصے میں پاکستان کے بیرونی قرضے 1242 ارب روپے بڑھ کر ایک نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں نئے قرضوں کا حصول، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے امداد اور روپے کی قدر میں کمی شامل ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے غیر ملکی کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی روپے میں مالیت میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے قرضوں کا مجموعی حجم بڑھ جاتا ہے۔
بیرونی قرضوں میں یہ مسلسل اضافہ ملک کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ نہ صرف آئندہ نسلوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا بلکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کے لیے دستیاب مالی وسائل کو بھی محدود کر دے گا۔ حکومت کو قرضوں کے انتظام اور انحصار کم کرنے کے لیے ٹھوس اور پائیدار حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو قرضوں کے اس گرداب سے نکالا جا سکے۔ بصورت دیگر، معاشی استحکام کا حصول ایک مشکل ہدف رہے گا۔
