اسلام آباد – فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں اور ٹربیونلز میں تقریباً 5.7 کھرب روپے مالیت کے ٹیکس اور کسٹمز کے تنازعات 50,732 مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عوامی محصولات کا ایک بہت بڑا حصہ قانونی کارروائیوں میں تعطل کا شکار ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے مالیاتی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جہاں اربوں روپے کے سرکاری فنڈز عدالتی فیصلوں کے منتظر ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق، ان زیر التواء مقدمات کی وجہ سے حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹیکس وصولی کے اہداف کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے، کیونکہ کاروباری برادری کو طویل قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مقدمات میں سب سے زیادہ تعداد ٹیکس سے متعلق ہے، جس کے بعد کسٹمز اور دیگر مالیاتی تنازعات شامل ہیں۔
50,000 سے زائد مقدمات کا عدالتی نظام میں پھنس جانا پاکستان کے ٹیکس انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو نہ صرف عدالتی بوجھ میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کے ممکنہ ریونیو سے محروم کر رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی فنڈز کو جلد از جلد آزاد کرایا جا سکے اور انہیں ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔





