اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں 14 بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد پولیس نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتال کے معطل افسران کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل پمز ہسپتال میں آکسیجن کی مبینہ قلت اور انتظامی غفلت کے باعث 14 نومولود بچوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ اس دلخراش واقعے پر وزیراعظم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی تھی جس میں ہسپتال انتظامیہ کی سنگین غفلت کی نشاندہی کی گئی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ہسپتال کے متعدد معطل افسران اور عملے کے ارکان کو طلب کیا گیا ہے اور ان کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ امکان ہے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت نے اس معاملے میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔



