اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک کے معروف طبی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے حالیہ واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے صرف اور صرف کرپشن کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے اور اس سے سبق سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ پمز جیسے اہم ادارے میں بدعنوانی کا سرایت کر جانا نہ صرف انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق، کرپشن کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، وسائل کا غلط استعمال ہوتا ہے اور بالآخر عام شہریوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے واقعات ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزیر دفاع نے حکام پر زور دیا کہ وہ پمز واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے، جس میں اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا شامل ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اس خطرے کی گھنٹی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو اس کے نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔



