لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام نقشہ جاتی اور جغرافیائی ڈیٹا کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کے مقصد سے ‘ون میپ پنجاب’ منصوبے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ، جس کی تخمینہ لاگت 1.466 ارب روپے ہے، صوبے بھر کے مکمل جغرافیائی، زمینی اور بنیادی ڈھانچے کے ڈیٹا پر مشتمل ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔
اس اہم اقدام کا مقصد پنجاب میں زمین کے ریکارڈ، شہری منصوبہ بندی اور حکومتی خدمات کی فراہمی میں انقلابی تبدیلی لانا ہے۔ ‘ون میپ پنجاب’ کے تحت، مختلف محکموں میں بکھرے ہوئے ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا، جس سے فیصلہ سازی کا عمل تیز اور زیادہ موثر ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف شفافیت کو فروغ دے گا بلکہ وسائل کے بہتر انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم شہریوں کو بھی زمین سے متعلق معلومات تک آسان رسائی فراہم کرے گا، جس سے تنازعات میں کمی اور لین دین میں آسانی پیدا ہوگی۔ ‘ون میپ پنجاب’ کا نفاذ صوبے کو ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔






