اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنشن کسی ملازم کے لیے کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ اس کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ دو دہائیوں تک کسی ملازم کی خدمات کو تسلیم کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ پر اس کی پنشن روکنا سراسر غیر قانونی اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت عالیہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملازمین اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت میں صرف کرتے ہیں اور پنشن ان کی طویل خدمات کا صلہ اور ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتی ہے۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے جو آئین پاکستان کے تحت انہیں حاصل ہے۔ اس حق سے محروم کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں سے روگردانی بھی ہے۔
یہ فیصلہ ان ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں پنشن کی ادائیگی میں تاخیر یا اسے روکنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنشن کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اس فیصلے سے پنشن کے نظام میں شفافیت اور بروقت ادائیگی کو فروغ ملے گا۔

