فرانس بھر میں ہفتے کے روز اسکولوں کے حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے تازہ ترین سلسلے کے دوران پرتشدد واقعات پھوٹ پڑے۔ خاص طور پر دارالحکومت پیرس میں شہریوں نے صبح بیدار ہونے پر مظاہروں سے ہونے والے نقصانات اور لوٹی گئی دکانوں کا منظر دیکھا، جس نے شہر میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔
یہ مظاہرے ملک میں تعلیمی اداروں کی خستہ حالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوامی غم و غصے کا اظہار تھے۔ مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ہفتے کے روز ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں طلباء، اساتذہ اور عام شہری شامل تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت تعلیمی نظام میں بہتری لائے اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کو کم کرے۔
پیرس کے کئی علاقوں میں مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا اور متعدد دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ حکام نے نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ واقعات فرانس میں سماجی بے چینی کی ایک نئی لہر کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں حکومت کو عوامی مطالبات کا سامنا ہے۔




