اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ جمعے کے روز پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ متوقع تھا، تاہم وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر یہ بوجھ آئل ریفائنریز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے بچانا اور انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان تھا، لیکن وزیراعظم نے واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی صورت میں صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اس کے نتیجے میں، آئل ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس اضافی لاگت کو خود برداشت کریں۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے مہنگائی کے ستائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس فیصلے سے فوری طور پر صارفین کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم، اس فیصلے کے آئل ریفائنریز پر مالی اثرات مرتب ہوں گے، جس کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔




