اسلام آباد: ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ شیئر کیے گئے وفاقی بجٹ کے مسودے اور قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے حتمی بجٹ میں نمایاں فرق پایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، کو بجٹ کی حتمی شکل پر تحفظات ہیں کیونکہ اس میں وہ تجاویز اور ترامیم شامل نہیں کی گئیں جن پر ابتدائی مشاورت کے دوران اتفاق رائے پایا گیا تھا۔
ان اختلافات کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، صوبائی ترقیاتی فنڈز اور ٹیکس کے بعض متنازعہ اقدامات میں نرمی برتی جائے گی۔ تاہم، حتمی بجٹ میں ان میں سے کئی اہم نکات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس سے پیپلز پارٹی کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بجٹ میں پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور نہ کیا گیا تو بجٹ کی منظوری میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں آخری لمحات میں کچھ تبدیلیاں عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہیں۔ تاہم، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس صورتحال میں، بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے پڑ سکتے ہیں تاکہ ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے اور بجٹ کو پارلیمنٹ سے باآسانی منظور کروایا جا سکے۔ یہ پیش رفت حکومتی اتحاد کے اندرونی اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






