اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل تعلیم میں قومیت کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی پابندی کی تردید کی ہے، جبکہ افغان طلباء کے جاری جائزے کے عمل کا دفاع کیا ہے۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے قومیت کی بنیاد پر کوئی ممانعت نہیں ہے، تاہم تمام طلباء کے لیے قانونی اندراج اور قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق، 176 افغان طلباء کے اندراج کی تصدیق کا عمل تاحال جاری ہے۔ کونسل نے زور دیا ہے کہ جو طلباء قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں، انہیں باقاعدہ داخل شدہ طلباء کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ عمل میڈیکل تعلیم کے معیار اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں افغان شہریوں کی موجودگی اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر بحث جاری ہے۔
کونسل نے مزید یقین دہانی کرائی ہے کہ اس جائزے کے عمل سے متاثر ہونے والے طلباء کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کسی کو پریشان کرنا نہیں بلکہ نظام میں شفافیت اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔ کونسل نے تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ یہ عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے اور مستحق طلباء کو ان کے حقوق مل سکیں۔

