پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کے ایک گروپ نے پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے قیادت کی جانب سے ‘کوششوں میں کمی’ اور صوبے میں حکومتی امور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک جامع اور منظم لائحہ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ اراکین اسمبلی، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حالیہ صوبائی کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر ناراض ہیں، نے پشاور میں ایک اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کو ایک خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پشاور اجلاس کے شرکاء نے شکایت کی کہ عمران خان کی رہائی اور ان کی صحت کے حوالے سے صورتحال ‘کارکنوں، حامیوں اور محب وطن شہریوں میں بے چینی’ کا باعث بن رہی ہے۔
خط کے مطابق، ‘کارکنوں کا خیال ہے کہ رہائی کی تحریک اپنی بنیادی سمت سے ہٹ گئی ہے اور محض صحت اور علاج کے معاملات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ رہنما کی رہائی کے لیے جاری تحریک زیادہ تر رسمی بیانات، محدود احتجاجی سرگرمیوں اور علامتی اقدامات تک ہی محدود نظر آتی ہے۔ تحریک کو مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے’۔ اراکین اسمبلی نے خبردار کیا کہ اگر ان مسائل کو فوری اور مؤثر طریقے سے حل نہ کیا گیا تو پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ‘غیر متعلقہ افراد کی مداخلت’ کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔




