پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک بھر کی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر غور کر رہی ہے، پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں “سیاسی گنجائش” اور “سانس لینے کی جگہ” بھی میسر نہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے حامی پشاور سمیت مختلف شہروں میں اپنے بانی عمران خان کی تصاویر اٹھائے ریلیاں نکال رہے ہیں، جو موجودہ سیاسی صورتحال پر ان کے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اس اہم فیصلے پر غور کرے گی کہ آیا اسمبلیوں سے استعفے دیے جائیں یا نہیں۔ پارٹی کے ایک رہنما شفیع جان نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پی ٹی آئی کے لیے اب سانس لینے کی جگہ بھی نہیں بچی ہے۔” ان کے بقول، پارٹی کو ہر محاذ پر دباؤ کا سامنا ہے اور اسے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف آزادانہ طور پر سیاسی سرگرمیاں کر رہے ہیں، وہیں پی ٹی آئی کو شدید پابندیوں کا سامنا ہے۔ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے اور ملک کی سیاسی صورتحال میں مزید غیر یقینی پیدا کر سکتا ہے۔





