چین میں منعقدہ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں ایک روبوٹ نے دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کے 100 میٹر دوڑ کے عالمی ریکارڈ کو توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حیران کن دعوے کا اعلان اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی ‘آنر’ (Honor) نے کیا ہے، جس کے مطابق ان کے تیار کردہ روبوٹ نے بولٹ کے ریکارڈ سے بھی تیز دوڑ لگائی۔
یوسین بولٹ نے 2009 میں 9.58 سیکنڈ میں 100 میٹر کی دوڑ مکمل کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو آج تک برقرار ہے۔ اس ریکارڈ کو انسانی رفتار کی انتہا سمجھا جاتا ہے، اور کسی مشین کا اسے چیلنج کرنا ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگرچہ ‘آنر’ کمپنی کا یہ دعویٰ ابھی آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہے، تاہم یہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی تیزی سے ترقی کو نمایاں کرتا ہے۔ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز جیسے ایونٹس کا مقصد روبوٹس کی صلاحیتوں کو پرکھنا اور انہیں انسانی سرگرمیوں میں مزید مؤثر بنانا ہے۔ یہ واقعہ مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان مقابلوں کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔








