چین سے ایک دل چھو لینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں 22 سال قبل لاپتہ ہونے والی ایک بچی لیو (Liu) بالآخر اپنے والدین سے دوبارہ مل گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے خاندان کے لیے امید کی کرن ہے جنہوں نے اپنی بیٹی کی تلاش میں دو دہائیاں گزار دیں۔ لیو کی گمشدگی نے اس کے والدین کو شدید کرب میں مبتلا کر دیا تھا، اور وہ اس کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔
لیو کے والدین نے اپنی لاپتہ بیٹی کو تلاش کرنے کے لیے بے شمار اپیلیں کیں، جن میں سے کچھ جیانگ نیوز اسٹیشن پر تین دن تک نشر کی گئیں۔ ان اپیلوں میں انہوں نے اپنی بیٹی کی تصویر اور گمشدگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے عوام سے مدد کی درخواست کی تھی۔ اگرچہ ان اپیلوں کا فوری نتیجہ سامنے نہیں آیا، لیکن انہوں نے اس کیس کو زندہ رکھا اور امید کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ خاندان نے اس طویل عرصے میں کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی بیٹی کی واپسی کی دعا کرتے رہے۔
22 سال کے طویل انتظار کے بعد، لیو کی واپسی ایک معجزے سے کم نہیں۔ مقامی پولیس اور رضاکار تنظیموں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں لیو کو بالآخر تلاش کر لیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، لیو کو بچپن میں اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ ایک دوسرے خاندان کے ساتھ رہ رہی تھی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی شناخت کی تصدیق کے بعد، اسے اس کے حقیقی والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ اس جذباتی ملاقات کے مناظر دل دہلا دینے والے تھے، جہاں والدین اور بیٹی آنسوؤں اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ یہ کہانی نہ صرف ایک خاندان کی جدوجہد اور صبر کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ امید کبھی نہیں مرتی۔

