چین نے ہزاروں ‘گھوسٹ کچنز’ کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جو کہ صرف آن لائن موجود ہیں اور ان کی کوئی حقیقی فزیکل موجودگی نہیں ہے۔ ان غیر موجود آن لائن دکانوں نے چینی صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر حفظان صحت اور کھانے کے معیار کے حوالے سے۔ یہ اقدام مسابقتی فوڈ ڈیلیوری ایپس کو لگام دینے اور صارفین کے لیے محفوظ اور معیاری خوراک کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ ‘گھوسٹ کچنز’ دراصل آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایپس کی بڑھتی ہوئی مسابقتی مارکیٹ کا نتیجہ ہیں۔ کم آپریٹنگ لاگت اور زیادہ منافع کے لالچ میں، بہت سے آپریٹرز نے بغیر کسی مناسب فزیکل ریستوران کے صرف آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کر لی تھی۔ تاہم، ان کچنز کی غیر موجودگی نے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ حکام کے لیے حفظان صحت کے معیارات کی نگرانی اور ریگولیشن کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ صارفین کی جانب سے بڑھتی ہوئی شکایات اور کھانے کے معیار پر سوالات اٹھنے کے بعد حکام حرکت میں آئے ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کا مقصد صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا اور فوڈ ڈیلیوری سیکٹر میں شفافیت لانا ہے۔ نئے قوانین اور سخت معائنوں کے ذریعے، حکومت ان آن لائن کچنز کو ریگولیٹ کرنے اور انہیں معیاری اور محفوظ خوراک فراہم کرنے کا پابند بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ‘گھوسٹ کچنز’ کے ماڈل کو متاثر کرے گا بلکہ فوڈ ڈیلیوری ایپس کو بھی اپنی سروسز اور پارٹنرز کی جانچ پڑتال کے حوالے سے مزید ذمہ دار بنائے گا، تاکہ مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ اور صارفین کا اعتماد بحال ہو سکے۔




