اسلام آباد: پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 28 نومبر 2025 کو اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے صومالیہ پر زور دیا ہے کہ وہ سمندری قزاقوں کے زیر حراست پاکستانی ملاحوں کی فوری رہائی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اس معاملے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق، پاکستان ایم ٹی آنر کے یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو سمندری قزاقی کے مسئلے سے نمٹنے اور متاثرہ افراد کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ملاحوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اور ان کی جلد از جلد رہائی اولین ترجیح ہے۔
اس موقع پر صومالی وزیر خارجہ نے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے اپنی مسلسل کوششوں کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ صومالی حکومت اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور قزاقوں کے چنگل سے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سمندری قزاقی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی شپنگ اور ملاحوں کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔




