ڈک ڈک گو، جو اپنی پرائیویسی پر مبنی سرچ سروسز کے لیے مشہور ہے، نے حال ہی میں اپنے ‘اے آئی کے بغیر’ (No AI) تلاش کے آپشن میں صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی ایک بڑی تعداد مصنوعی ذہانت سے پاک تلاش کے نتائج کو ترجیح دے رہی ہے اور روایتی سرچ کے تجربے کو اہمیت دے رہی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز اور سرچ انجنوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، بہت سے صارفین اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد کی درستگی، ممکنہ تعصب اور رازداری کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔ ڈک ڈک گو کا ‘اے آئی کے بغیر’ آپشن صارفین کو روایتی اور الگورتھم پر مبنی نتائج فراہم کرتا ہے، جو انہیں اے آئی کے ممکنہ اثرات سے بچنے کا موقع دیتا ہے اور زیادہ قابل اعتماد معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس پیش رفت سے سرچ انجن کی صنعت میں ایک نیا بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا صارفین واقعی اے آئی سے بھرپور تلاش کے تجربات کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ڈک ڈک گو کا یہ مشاہدہ دیگر سرچ انجنوں کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ صارفین کی ترجیحات متنوع ہیں اور رازداری کے ساتھ ساتھ غیر مصنوعی ذہانت پر مبنی نتائج کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں سرچ انجنوں کی حکمت عملیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور انہیں صارفین کی مختلف ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید آپشنز فراہم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔


