امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اہم رہنما اور سابق صدر براک اوباما کے دور کے ایک اعلیٰ عہدیدار رہم ایمانوئل نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ اب امریکہ سے غیر مشروط امداد کی توقع نہ رکھے۔ ان کا یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک ممکنہ تبدیلی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے نئے خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔
رہم ایمانوئل، جنہیں 2028 کے صدارتی انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ امریکی امداد اب اسرائیل کے اقدامات سے مشروط ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے حوالے سے بدلتے ہوئے جذبات اور پالیسیوں کی طرف ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ امریکی امداد کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے جوڑا جائے۔
یہ موقف، جو ماضی کی امریکی انتظامیہ کی روایتی پالیسی سے ہٹ کر ہے، مستقبل میں امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر رہم ایمانوئل جیسے رہنما اس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، تو یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک وسیع تر اتفاق رائے کی نشاندہی کرتا ہے جو اسرائیل پر زیادہ دباؤ ڈالنے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے حق میں ہے۔ اس تبدیلی کا اثر نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی سطح پر اسرائیل کے کردار پر بھی پڑ سکتا ہے۔



