اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی پیش رفت کا انحصار طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان سرزمین سے سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی پر ہوگا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے سجاد حیدر خان کے ان کی جگہ لینے سے قبل اپنی آخری ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اسلام آباد چین کی مسلسل شمولیت کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن بیرونی سہولت کاری کابل کی جانب سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسائل پر چین کی تعمیری اور پائیدار شمولیت کو سراہتا ہے اور اسلام آباد ہمیشہ افغانستان کے موضوع پر تعمیری مکالمے کے لیے مثبت طور پر مصروف رہا ہے۔ تاہم، پیش رفت کا انحصار افغان طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی پر ہوگا جو ان کی سرزمین سے پاکستان میں سرگرم ہیں۔
ترجمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ ثالثی کی ناکامی نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کرے اور کہا کہ نئی دہلی بین الاقوامی قانون کو اپنی سہولت کے مطابق نہیں سمجھ سکتا۔






