کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے نوجوان میر رضا علی کی لاش ملنے کے معاملے پر تفتیش کے لیے قائم کردہ کمیٹی میں توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اعلیٰ حکام نے کیس کی تحقیقات کو مزید مؤثر اور جامع بنانے کے لیے کیا ہے تاکہ حقائق کو جلد از جلد سامنے لایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل نے کمیٹی میں مزید سینئر افسران کو شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔ اب یہ کمیٹی ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس میں سی آئی اے اور اسپیشل برانچ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے تاکہ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا سکے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے۔
میر رضا علی کی لاش ایک ویران علاقے سے ملی تھی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ لواحقین نے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے اور پولیس پر دباؤ ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل کیس کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرے۔ نئی کمیٹی کی تشکیل کا مقصد تفتیشی عمل کو تیز کرنا اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔






