کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف دی گئی ہڑتال کے دوران شہر کے بیشتر کاروباری مراکز اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں۔ امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ تاجر برادری نے اس ہڑتال کو کامیاب بنایا ہے اور 300 سے زائد مارکیٹیں بند رہی ہیں۔
منعم ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے تاجروں نے مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ان کے مطابق، شہر کے بڑے تجارتی مراکز بشمول صدر، ایم اے جناح روڈ، طارق روڈ، لیاقت آباد، اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔ ہڑتال کے باعث سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم رہی، جس سے شہریوں کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جماعت اسلامی نے یہ ہڑتال بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کی تھی۔ منعم ظفر خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا فوری نوٹس لے اور بجلی کے بلوں میں اضافے کو واپس لے کر عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔



