کراچی: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ہونے والے جھگڑے کی انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں لگائے گئے الزامات تحقیقاتی نتائج سے “ثابت نہیں ہوئے”۔ اس کے ساتھ ہی واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ یہ انکشاف جمعہ کو ہوا۔
گزشتہ ہفتے ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے رہائشیوں کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ پولیس اہلکار ایک خاتون کو قابو کر رہے تھے جب ایک دوسری خاتون نے اس پر ڈمبل سے حملہ کیا۔ تاہم، واقعے کی ایف آئی آر حملہ آور خاتون کے بجائے متاثرہ خاتون اور اس کے بھائی کے خلاف درج کی گئی تھی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔
ڈان اخبار کے پاس موجود انکوائری رپورٹ کی ایک کاپی کے مطابق، یہ رپورٹ ڈی آئی جی ساؤتھ زون سید اسد رضا نے کراچی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کو پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کی گئی تاکہ واقعات کی اصل نوعیت، جھگڑے کی وجوہات اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے رویے کا تعین کیا جا سکے۔ انکوائری کے دوران تمام دستیاب دستاویزی اور الیکٹرانک ڈیٹا، محکمانہ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ سی سی ٹی وی اور موبائل فون فوٹیج کا بھی بغور معائنہ کیا گیا۔ مزید برآں، 13 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
