جموں و کشمیر کے کرکٹ شائقین اور کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ آ پہنچا ہے، جب عقب نبی کو بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے پہلے کرکٹر ہیں جنہیں بھارت کی قومی ٹیسٹ ٹیم میں نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہ خبر نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے خطے کے لیے فخر کا باعث بنی ہے اور لاکھوں افراد کے لیے امید کی ایک نئی کرن لے کر آئی ہے۔
عقب نبی کا یہ سفر اس لیے بھی زیادہ متاثر کن ہے کہ وہ ایک سکول ٹیچر کے بیٹے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنی محنت، لگن اور غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر یہ سنگ میل عبور کیا۔ ان کی کامیابی لاکھوں نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بن کر ابھری ہے جو کرکٹ کے میدان میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔
عقب نبی کی بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت جموں و کشمیر میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک نئی روح پھونک دے گی۔ یہ نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت کا روپ دینے کی ترغیب دے گی۔ ان کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ کسی علاقے یا پس منظر کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ اسے صرف صحیح پلیٹ فارم اور مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کامیابی پورے خطے کے لیے ایک جشن کا موقع ہے اور عقب نبی کو ان کے مستقبل کے لیے نیک تمنائیں پیش کی جاتی ہیں۔






