کوئٹہ: اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک میں جاری سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیا جیتے ہوئے لوگوں کو ہروانا آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ یہ سوال انہوں نے موجودہ سیاسی تناظر میں اٹھایا جہاں انتخابات کے نتائج پر بڑے پیمانے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل مکمل ہو چکا ہے لیکن انتخابی نتائج کی شفافیت پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اچکزئی کا اشارہ بظاہر ان انتخابی نتائج کی طرف تھا جہاں مبینہ طور پر کامیاب امیدواروں کو شکست خوردہ قرار دیا گیا یا ان کے نتائج میں رد و بدل کیا گیا۔
انہوں نے آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں استحکام کے لیے آئین کی روح کے مطابق فیصلے کرنا ناگزیر ہے۔ محمود اچکزئی کے مطابق، اگر آئینی اصولوں کو پامال کیا جائے گا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو موجودہ سیاسی بحران کے حل اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی ایک اپیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
