یوکرین میں جاری جنگ کو پچاس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اس طویل تنازعے کے بعد اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا روس اس جنگ میں شکست سے دوچار ہو رہا ہے؟ اگرچہ زمینی حقائق پیچیدہ ہیں، لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سوال کا سیدھا جواب ‘نہیں’ ہے۔ تاہم، آئندہ چند ماہ اس جنگ کے مستقبل کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
جنگ کے آغاز سے اب تک دونوں فریقوں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرین نے مغربی ممالک کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی سرزمین کا دفاع کیا ہے، جبکہ روس نے بھی اپنی فوجی طاقت اور وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اہم علاقوں پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔ روس کی جانب سے حالیہ مہینوں میں پیش قدمی کی رفتار سست ضرور ہوئی ہے، لیکن اس نے اپنی حکمت عملی میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور نئے محاذوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔ اس صورتحال میں، روس کو مکمل طور پر شکست خوردہ قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آنے والے چند ماہ میں یہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے ممکنہ طور پر بڑے حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی حمایت اور فوجی امداد کی فراہمی بھی اس جنگ کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یوکرین کے لیے اپنی سرزمین کی آزادی اور روس کے لیے اپنے سٹریٹجک اہداف کا حصول، دونوں کے لیے یہ وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس فیصلہ کن دور میں، عالمی طاقتوں کے کردار اور علاقائی استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

