حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا نو سال پرانا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس انٹرویو میں عمران خان نے مسلم دنیا میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے حوالے سے ایک اہم دعویٰ کیا تھا، جس نے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک میں سیاسی و علاقائی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔
وائرل ہونے والے اس انٹرویو میں عمران خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ “اسرائیل کی یہ مسلسل کوشش رہی ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑایا جائے تاکہ وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مسلم دنیا میں انتشار اور تقسیم کو فروغ دیتا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ ان کے اس بیان کو اس وقت بھی کافی اہمیت دی گئی تھی اور اب نو سال بعد اس کا دوبارہ وائرل ہونا موجودہ حالات سے اس کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
عمران خان کے اس بیان کو کئی حلقوں میں مسلم دنیا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر جب خطے کو مختلف اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ انٹرویو ایک بار پھر مسلم دنیا میں بیرونی مداخلت اور اس کے اثرات پر ایک وسیع بحث کا آغاز کر رہا ہے، جس میں اسرائیل کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
