کیلیفورنیا کی سرکاری یونیورسٹیوں نے مالی بحران کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) پر 16.9 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، جس کے نتیجے میں اب یہ ادارے شدید افراتفری اور اندرونی خلفشار کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس بھاری سرمایہ کاری نے، جو کہ ایک ایسے وقت میں کی گئی جب یونیورسٹیوں کو مالی مشکلات کا سامنا تھا، تعلیمی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف انتظامیہ اور فیکلٹی کے درمیان اختلافات کا باعث بنا ہے بلکہ طلباء اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بھی اس حکمت عملی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹیوں کے اندرونی ذرائع کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر بے تحاشا اخراجات نے دیگر اہم شعبوں سے وسائل کو ہٹا دیا ہے، جس سے تعلیمی معیار اور بنیادی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں بے تحاشا سرمایہ کاری کے فوائد کے بجائے، کیلیفورنیا کی یہ یونیورسٹیاں اب اپنی ہی حکمت عملی کے بوجھ تلے دب رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ان اداروں کی ساکھ اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جہاں ایک جانب ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کی گئی وہیں دوسری جانب اس کے منفی اثرات نے اداروں کو تقسیم کر دیا ہے۔



