کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ سرحد پار پلوں سے حاصل ہونے والے محصول (ٹول) کو اس وقت تک شیئر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک امریکہ کی جانب سے کینیڈا کا واجب الادا قرض ادا نہیں کر دیا جاتا۔ یہ بیان کینیڈا کے ایک اعلیٰ عہدیدار، کارنی، کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا کا یہ موقف اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ قرض کی مکمل ادائیگی نہیں ہو جاتی۔ یہ قرض مبینہ طور پر سرحد پار پلوں کی تعمیر یا دیکھ بھال سے متعلق ہے، جس میں کینیڈا نے ابتدائی طور پر سرمایہ کاری کی تھی۔ کینیڈین حکومت کا اصرار ہے کہ اس مالیاتی ذمہ داری کی ادائیگی کے بغیر محصول کی تقسیم کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ فیصلہ کینیڈا کی جانب سے اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس اعلان سے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی اور مالیاتی تعلقات پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے مشترکہ منصوبوں اور سرحدی انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کینیڈا کا یہ دوٹوک موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہے، اور اس مسئلے کے حل تک محصول کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔




