کیوبا میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندشوں نے ملک بھر کے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ خاص طور پر اونچی عمارتوں میں رہائش پذیر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں لفٹیں بند ہونے سے ان کی نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال ان کی روزمرہ زندگی میں ایک مستقل غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے نمائندے وِل گرانٹ نے ایک 70 سالہ بیوہ سے بات کی جنہوں نے اپنی دلخراش کہانی بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی بندش کے دوران ان کی عمارت کی لفٹ کام کرنا چھوڑ گئی، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے شوہر اس وقت پھنس کر رہ گئے جب انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔
بیوہ نے بتایا کہ لفٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ اپنے بیمار شوہر کو نیچے ہسپتال نہیں لے جا سکیں، جس کے باعث انہیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ واقعہ کیوبا میں بجلی کے بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور انہیں ہر لمحہ ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔



