کے پی میں ہنگامی حالت کی توثیق کرنے والی پارلیمنٹ کیا اپنے اختیارات مزید محدود کرنے والے اقدام پر بھی مہر تصدیق ثبت کرے گی؟

پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر خیبر پختونخوا (کے پی) میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان زیر بحث ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا قومی اسمبلی، جو ماضی میں ایسے اقدامات کی توثیق کرتی رہی ہے، اپنے ہی اختیارات کو مزید محدود کرنے والے کسی بھی اقدام پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کرے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو نہ صرف پارلیمانی خودمختاری بلکہ ملک میں جمہوری اصولوں کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت، اگر کسی صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہو جائے اور صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے تو صدر مملکت ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس اعلان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ماضی میں کئی بار صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے، اور اکثر اوقات پارلیمنٹ نے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اکثریت میں ہو، ایسے اعلانات کی توثیق کی ہے۔ یہ رجحان پارلیمنٹ کے اپنے اختیارات کو محدود کرنے کی ایک تاریخ رقم کرتا ہے، جہاں بظاہر ایگزیکٹو کے دباؤ یا سیاسی مصلحتوں کے تحت قانون ساز ادارہ اپنے ہی کردار سے دستبردار ہوتا نظر آتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں، جہاں خیبر پختونخوا میں ایک ایسی صوبائی حکومت ہے جو مرکز کی اتحادی نہیں ہے، ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ پارلیمنٹ، جس کی اپنی ساکھ اور اختیارات پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ایک ایسا فیصلہ کرے گی جو اس کے اپنے کردار کو مزید کمزور کر دے؟ پارلیمنٹ کا کام ایگزیکٹو کے اقدامات پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے، نہ کہ ان پر محض مہر تصدیق ثبت کرنا۔ اگر پارلیمنٹ اپنے ہی اختیارات کی مزید کٹوتی کی اجازت دیتی ہے، تو یہ نہ صرف جمہوری عمل کے لیے ایک دھچکا ہوگا بلکہ آئینی بالادستی کے اصولوں کو بھی مجروح کرے گا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ پارلیمنٹ محض ایک ربڑ سٹیمپ ہے، جو ملک میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔

  • Related Posts

    بھارت: ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، لاکھوں شہری حق رائے دہی ثابت کرنے میں مشکلات کا شکار

    لادلی خاتون اپنے پیلے بیگ سے ایک کے بعد ایک دستاویز نکال رہی تھیں، اس امید کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی ایک دستاویز ہی بھارت کی انتخابی فہرستوں…

    سابق صدر ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات میں 277 ملین ڈالر کا بے مثال خرچ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے آخری مرحلے میں اپنے سپر پی اے سی (سیاسی ایکشن کمیٹی) کے ذریعے 277 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔