اسپین میں اردو بولنے والے قارئین کے لیے ایک اہم خبر کے مطابق، تین نوجوانوں نے شدت پسند گروہ سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے باعث غلط راستے پر چلے گئے تھے۔ اس پیش رفت کو شدت پسندی کے خلاف ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘ہمارے نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے باعث غلط راستے پر چلے گئے تھے۔’ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر، جنہیں ‘فتنۃ الہندوستان’ کے نام سے جانا جاتا ہے، نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منظم طریقے سے جھوٹی معلومات اور نفرت انگیز مواد پھیلا رہے تھے۔ ان کا بنیادی مقصد معاشرے میں انتشار پھیلانا، نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنا اور ملک کے امن و امان کو سبوتاژ کرنا تھا۔
ان نوجوانوں کی شدت پسند گروہ سے لاتعلقی اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت رہنمائی اور آگاہی سے گمراہ کن پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور انہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی فراہم کریں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال اور حقائق پر مبنی معلومات کی ترویج کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور نوجوانوں کو کسی بھی قسم کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


