گنی کے صدر نے ایک اہم اقدام میں 173 فوجیوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ ان برطرف کیے جانے والے فوجیوں میں ایک اہم اتحادی بھی شامل ہے جو صدر کی سابقہ بغاوت میں ان کے ساتھ تھا۔ ان تمام فوجیوں پر فوج سے فرار ہونے یا غیر حاضر رہنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام صدر کی جانب سے اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرنے اور فوج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
گنی کے موجودہ صدر خود ایک سابق فوجی بغاوت کے رہنما ہیں جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس طرح کی برطرفیاں عام طور پر اقتدار میں آنے والے نئے رہنماؤں کی جانب سے اپنے مخالفین کو ہٹانے اور اپنی وفادار ٹیم کو مضبوط کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس اقدام سے گنی کی داخلی سیاست میں مزید تبدیلیاں آنے کا امکان ہے۔





