ہم جہنم سے آئے ہیں: یوکرینی شہر اولیشکی سے نکلنے والے شہریوں کی بقا کی کہانیاں

یوکرین کے جنگ زدہ شہر اولیشکی سے نکلنے والے شہری، جو کئی سالوں سے جاری لڑائی کے دوران وہاں پھنسے ہوئے تھے، بالآخر ایک خوفناک 24 گھنٹے کے سفر کے بعد محفوظ مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ تھکے ہارے ان شہریوں نے اپنے پیاروں سے مل کر سکھ کا سانس لیا، اور ان کے چہروں پر طویل جدوجہد کی داستانیں رقم تھیں۔

ان میں سے کئی شہریوں نے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ “ہم جہنم سے آئے ہیں”۔ ان کے بقول، اولیشکی میں جنگی صورتحال کے دوران زندگی گزارنا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ ہر لمحہ موت کا خوف، خوراک اور پانی کی قلت، اور مسلسل بمباری نے ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا تھا۔ محفوظ مقام تک پہنچنے کا 24 گھنٹے کا سفر بھی انتہائی اذیت ناک تھا، جس میں انہیں کئی رکاوٹوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنے خاندان اور دوستوں سے ملنے کے بعد، اگرچہ ان کے چہروں پر تھکن اور صدمے کے آثار نمایاں تھے، لیکن ایک نئی زندگی کی امید بھی جھلک رہی تھی۔ یہ بچ جانے والے افراد اپنی بقا کی کہانیاں سناتے ہوئے، جنگ کے ہولناک نتائج اور انسانیت پر اس کے گہرے اثرات کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک نئی شروعات کے منتظر ہیں، لیکن اولیشکی میں گزارے گئے سالوں کے زخم شاید کبھی مندمل نہیں ہو پائیں گے۔

  • Related Posts

    سوسن کولنز: حساب کتاب میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والی سینیٹر

    ریاست مین کی طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی سینیٹر سوسن کولنز اپنے ریاستی حلقوں میں لاکھوں ڈالرز کے منصوبے لانے کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی…

    روسی قبضے میں سالوں گزارنے کے بعد یوکرینی شہریوں کا بیان: ‘ہم جہنم سے واپس آئے ہیں’

    یوکرین کے وہ شہری جو کئی سالوں سے روس کے زیرِ قبضہ فرنٹ لائن شہروں میں زندگی گزار رہے تھے، اب اپنے انخلا کے بعد اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔