آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں، معلومات تک رسائی ایک لمحاتی عمل بن چکی ہے۔ ماضی میں، کسی بھی چیز کی تلاش ایک طویل اور پرپیچ سفر ہوا کرتا تھا، جہاں انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے کئی غیر متوقع راستوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ سفر نہ صرف معلومات فراہم کرتا تھا بلکہ نئے خیالات اور نامعلوم حقائق سے بھی روشناس کراتا تھا جن کے بارے میں شاید ہم نے کبھی سوال کرنے کا سوچا بھی نہ ہو۔
مگر اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سرچ انجنوں کی بدولت، ہم براہ راست اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ جو چیز ہم جاننا چاہتے ہیں، وہ ایک کلک کی دوری پر موجود ہوتی ہے۔ اس فوری رسائی نے جہاں وقت کی بچت کی ہے اور کارکردگی میں اضافہ کیا ہے، وہیں اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ ہم اس ‘بھٹکنے’ کی صلاحیت کھو رہے ہیں جو ہمیں غیر ارادی طور پر نئی چیزیں سکھاتی تھی۔ لائبریریوں میں کتابوں کے شیلف کے درمیان گھومتے ہوئے یا کسی انسائیکلوپیڈیا کے صفحات پلٹتے ہوئے جو اتفاقی دریافتیں ہوتی تھیں، وہ اب نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ صلاحیت کا زوال ہمیں ایک اہم سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ہم صرف وہی جاننے کے قابل رہ گئے ہیں جس کے بارے میں ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمیں پوچھنا ہے؟ وہ نامعلوم، وہ غیر متوقع علم جو ہماری سوچ کو وسعت دے سکتا تھا، وہ اب ہماری پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نامعلوم کو دریافت کرنے کی یہ صلاحیت، جو کبھی انسانی ترقی کا محرک تھی، اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم صرف منزل تک پہنچنے کی جلدی میں سفر کے دوران ملنے والے انمول خزانوں کو نظر انداز تو نہیں کر رہے؟


