واشنگٹن: ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ واضح اور قابل پیمائش انسانی حقوق کے معیارات کے بغیر طالبان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہ لائیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے طالبان کے پانچ سالہ دورِ حکومت کے افغان بچوں اور نوجوانوں پر تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ “ممالک کو طالبان کے ساتھ تعلقات کو واضح اور قابل پیمائش انسانی حقوق کے معیارات کے بغیر معمول پر نہیں لانا چاہیے۔”
تنظیم نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ صنفی امتیاز (gender apartheid) کو انسانیت کے خلاف جرم تسلیم کریں اور افغانستان میں صنفی ظلم و ستم اور دیگر سنگین بین الاقوامی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی کوششوں کی حمایت کریں۔ یہ انتباہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ کی جانب سے طالبان کی پالیسیوں کے بچوں پر اثرات سے متعلق ایک نئی رپورٹ جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
بینیٹ نے کہا کہ طالبان کا امتیازی سلوک، جبر اور نظریاتی کنٹرول کا ادارہ جاتی نظام بچوں کو جامع اور معیاری تعلیم، اظہار رائے کی آزادی اور سماجی و عوامی زندگی میں بامعنی شرکت کے حقوق سے محروم کر رہا ہے۔ بینیٹ نے مزید کہا کہ “افغانستان کے بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں امتیازی سلوک، خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کے خلاف، معمول بن چکا ہے؛ انہیں سیکھنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے اور ان کے مستقبل کے مواقع تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔” انہوں نے خاص طور پر چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر مسلسل پابندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔






