ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے حراست میں لیے گئے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کریں۔ عالمی انسانی حقوق کی اس تنظیم نے افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم نے خاص طور پر ویمن فار ویمن کمیٹی فار لیگل ریفارم فاؤنڈیشن (WCLRF) کے چھ مرد اہلکاروں کے جبری طور پر لاپتہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، ان اہلکاروں کو کابل میں ان کے دفتر سے جبری طور پر اٹھا لیا گیا تھا اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ یہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور طالبان کے تحت کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں افغانستان میں امدادی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں، جس سے پہلے سے ہی نازک انسانی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام حراست میں لیے گئے افراد کو شفاف عدالتی عمل کے ذریعے یا فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔




