یورپی یونین نے سیوٹا میں تارکین وطن کی حالیہ آمد کے بعد اپنی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس سے قبل کارروائی پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبہ اسپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا میں ہزاروں تارکین وطن کی غیر معمولی آمد کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
سیوٹا کا واقعہ، جہاں ایک ہی دن میں ہزاروں افراد مراکش سے اسپین میں داخل ہوئے، نے یورپی یونین کی سرحدی سلامتی پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان تارکین وطن میں بڑی تعداد میں نوجوان اور بچے بھی شامل تھے، جنہیں اسپین کی سیکیورٹی فورسز نے روکنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال نے نہ صرف اسپین بلکہ پورے یورپی بلاک کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جس کے بعد سرحدی انتظام اور پناہ گزینوں کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
وزراء کا ہنگامی اجلاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور کرے گا۔ ارسولا وان ڈیر لیین نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کو اپنی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک مربوط اور موثر نظام کی ضرورت ہے تاکہ غیر قانونی نقل مکانی کو روکا جا سکے۔ اس اجلاس میں سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے کردار کو مزید مضبوط بنانے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔






