یورپ بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور شدید گرمی کی لہروں نے موسم گرما کے روایتی تصور کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں ماضی میں موسم گرما چھٹیوں اور تفریح کا وقت سمجھا جاتا تھا، وہیں اب یہ ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر نئی نسلوں کے لیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے بچے اپنے والدین اور دادا دادی کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف موسم گرما کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کے والدین اور دادا دادی نے شاید ایسے موسم گرما دیکھے ہوں جہاں درجہ حرارت معتدل رہتا تھا اور گرمی کی لہریں اتنی تواتر سے نہیں آتی تھیں۔ لیکن آج کی نسل کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور طویل گرمی کی لہروں کا سامنا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی اور سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
یہ موسمیاتی تبدیلیوں کا واضح اثر ہے جس نے نہ صرف یورپی ممالک کے موسم کو متاثر کیا ہے بلکہ سماجی رویوں اور طرز زندگی میں بھی تبدیلی لائی ہے۔ ساحلوں پر تفریح اور بیرونی سرگرمیوں میں کمی آ رہی ہے جبکہ لوگ گھروں کے اندر رہنے اور ایئر کنڈیشننگ پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے مستقبل کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے کہ آنے والی نسلیں کس قسم کے موسم گرما کا سامنا کریں گی۔

