یوسین بولٹ، جو دنیا کے تیز ترین انسان کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے 2009 میں برلن میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران 100 میٹر کی دوڑ میں 9.58 سیکنڈ کا ایسا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جسے آج بھی ناقابلِ شکست سمجھا جاتا ہے۔ اب اس تاریخی ریکارڈ کو توڑنے والے ایتھلیٹ کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے بھاری انعام کی پیشکش کی گئی ہے، جس نے عالمی کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ بولٹ کا ریکارڈ کتنا غیر معمولی اور مشکل ہے۔
بولٹ کا یہ ریکارڈ نہ صرف ان کی اپنی بہترین کارکردگی تھی بلکہ اس نے ایتھلیٹکس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ 9.58 سیکنڈ کا یہ وقت اس قدر کم ہے کہ ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی جسم کے لیے اس سے زیادہ تیزی سے دوڑنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس ریکارڈ کو قائم ہوئے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن کوئی بھی ایتھلیٹ اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔ ایک کروڑ ڈالر کا یہ انعام اس ریکارڈ کی عظمت اور اسے توڑنے کی دشواری کو نمایاں کرتا ہے۔
اس بھاری انعام کی پیشکش سے دنیا بھر کے تیز رفتار ایتھلیٹس میں ایک نئی تحریک پیدا ہونے کی امید ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ مالی ترغیب کسی نئے ٹیلنٹ کو ابھارتی ہے جو یوسین بولٹ کے ناقابلِ یقین کارنامے کو چیلنج کر سکے۔ تاہم، بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ بولٹ کا ریکارڈ شاید ہمیشہ کے لیے قائم رہے گا، اور یہ انعام صرف اس لیجنڈری ایتھلیٹ کی میراث کو مزید تقویت بخشے گا۔



