روس کے علاقے شمالی اوسیٹیا کو یوکرین کی جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس علاقے کے کئی خاندانوں نے اپنے بیٹے اس تنازعے میں کھو دیے ہیں، جو یوکرین کے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ان جانی قربانیوں کے باوجود، مقامی آبادی میں جنگ کے حوالے سے ایک پیچیدہ اور متضاد نقطہ نظر پایا جاتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر، شمالی اوسیٹیا کے بہت سے باشندے اب بھی کریملن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ یہ جنگ فتح حاصل ہونے تک جاری رہنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ روس کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے اور یوکرین میں جاری فوجی کارروائیوں کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ کریملن کی جانب سے پیش کردہ بیانیہ، جس میں اس جنگ کو ‘خصوصی فوجی آپریشن’ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، علاقے کے لوگوں میں مضبوطی سے جڑ پکڑ چکا ہے۔
مقامی آبادی میں یہ جذبہ گہرا ہے کہ ان کے بیٹوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور یہ جنگ روس کی سلامتی اور مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جانی نقصان کے باوجود، جنگ کی حمایت میں کمی نہیں آئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی بیانیہ کس قدر مؤثر طریقے سے عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو چکا ہے۔


