یوکرین کی جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ کیف نے روس کی 8 تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں پر حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں جولائی کے اوائل تک روس کی 40 فیصد سے زائد تیل صاف کرنے کی صلاحیت ناکارہ ہو چکی ہے۔ یہ دعویٰ یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی جاری حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد روس کی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق، تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں یہ کمی روس کی معیشت پر گہرا اثر ڈالے گی اور اسے اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے درکار وسائل جمع کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روس نے ابھی تک ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم اس نے ماضی میں یوکرین کے ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ حملے یوکرین کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت وہ روس کے اندرونی علاقوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنا کر جنگ کا دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ مغربی دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یوکرین کے یہ دعوے درست ہیں تو روس کی تیل کی پیداوار اور برآمدات پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے، جس کے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے اس طرح کے حملوں میں شدت آنے کا امکان ہے کیونکہ جنگ اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔

