یوکرین کے جنوبی شہر خیرسن میں روسی ڈرونز کی جانب سے عوامی بسوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث یہ شہر ملک کے خطرناک ترین بس روٹس میں سے ایک بن گیا ہے۔ ان حملوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں انہیں ہر روز موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رواں سال اب تک ان مہلک حملوں میں تین ٹرانسپورٹ ورکرز اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ یہ ڈرائیور اور دیگر عملہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جب کہ روسی افواج کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال خیرسن کے رہائشیوں کے لیے بھی روزمرہ کی زندگی میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جہاں بنیادی سفری سہولیات بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
ان حملوں سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے بلکہ یہ یوکرین میں جاری جنگ کی سنگینی کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جہاں عام شہری اور ضروری خدمات فراہم کرنے والے افراد براہ راست تنازع کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے، تاہم خیرسن کے بس ڈرائیوروں کا حوصلہ اب بھی بلند ہے اور وہ اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ شہر کی زندگی کو کسی حد تک معمول پر رکھا جا سکے۔






