یوکرین میں ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگی حکمت عملی میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے، اور اس کی مقبولیت میں ایک وزیر دفاع کا کلیدی کردار رہا ہے جنہوں نے اس کے استعمال کو بھرپور طریقے سے فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے ڈرونز یوکرین کی دفاعی صلاحیت کا ایک لازمی حصہ بن گئے، جس نے انہیں اس شعبے میں ایک اہم شخصیت بنا دیا۔
تاہم، ڈرونز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور وزیر دفاع کی جانب سے ان کی بھرپور تشہیر نے ایک اندرونی تصادم کو جنم دیا۔ اس صورتحال میں صدر ولادیمیر زیلنسکی کو مداخلت کرنی پڑی، اور انہوں نے فوجی قیادت (ملٹری براس) کا ساتھ دیا۔ صدر کا یہ فیصلہ وزیر دفاع کی پوزیشن اور اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
اس واقعے نے نہ صرف وزیر دفاع کے اثر و رسوخ کو کم کیا بلکہ یوکرین کی دفاعی پالیسی میں بھی ایک نئی سمت کا اشارہ دیا۔ صدر کا فوجی قیادت کی حمایت کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی دفاعی حکمت عملی میں اعلیٰ فوجی حکام کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ میں وزیر دفاع کا کردار اب شاید پہلے جیسا نہیں رہا۔

