تازہ ترین اقتصادی رپورٹس کے مطابق، 10 فیصد کی بلند شرح مہنگائی کے پیش نظر، آئندہ مالیاتی پالیسی میں شرح سود کے حوالے سے مالیاتی ماہرین اور اداروں کی پیش گوئیاں منقسم ہو گئی ہیں۔ یہ صورتحال مرکزی بینک کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے کیا قدم اٹھاتا ہے، جہاں اسے مہنگائی پر قابو پانے اور اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
معروف مالیاتی ادارے گروتھ سیکیورٹیز (Growth Securities) کا خیال ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس (bps) کا اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق، بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت میں استحکام لانے کے لیے شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہے۔ یہ اقدام قرض لینے کو مہنگا کرے گا اور صارفین کی قوت خرید کو کم کر کے مہنگائی پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گا۔
دوسری جانب، ایک اور نمایاں مالیاتی فرم اے کے ڈی (AKD) کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ اے کے ڈی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ ان کی پیش گوئی کی بنیاد ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور ترسیلات زر (remittances) میں اضافے پر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مضبوط ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر معیشت کو کافی حد تک سہارا دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے شرح سود میں مزید اضافے کی فوری ضرورت نہیں ہے۔
آئندہ مالیاتی پالیسی کا اعلان اس بات کا تعین کرے گا کہ مرکزی بینک کس حکمت عملی کو اپناتا ہے اور اس کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہو گا، کیونکہ اس کے براہ راست اثرات قرضوں کی لاگت اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر مرتب ہوں گے۔




