امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق، 12 اگست کو ایک نایاب مکمل سورج گرہن ہوگا، جو گزشتہ دو سالوں میں ہونے والا پہلا ایسا فلکیاتی واقعہ ہے۔ یہ ایک ایسا مظہر ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دیتا ہے، جس سے دن کے وقت بھی آسمان تاریک ہو جاتا ہے۔
ناسا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مکمل سورج گرہن صرف دنیا کے چند مخصوص ممالک کے لوگ ہی مکمل طور پر دیکھ سکیں گے۔ ایسے واقعات نسبتاً نایاب ہوتے ہیں اور انہیں دیکھنے کے لیے مخصوص جغرافیائی مقامات پر ہونا ضروری ہے۔ اس سے قبل آخری مکمل سورج گرہن دو سال قبل دیکھا گیا تھا، جس کے بعد فلکیات کے شائقین اس آئندہ واقعے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
اگرچہ ناسا نے ان ممالک کی مکمل فہرست جاری نہیں کی ہے جہاں سے یہ مکمل سورج گرہن دیکھا جا سکے گا، تاہم فلکیات کے ماہرین اس کی پیش گوئیوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ سائنسدانوں کے لیے سورج کے کرونا (بیرونی ہالے) اور دیگر فلکیاتی مظاہر کا مطالعہ کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا، جبکہ عام لوگوں کے لیے یہ قدرت کے حسین نظاروں میں سے ایک ہوگا۔






