اتوار کے روز لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا، جب اسرائیل نے لبنانی شہریوں کو ملک کے جنوبی علاقوں سے زمینی کارروائیوں میں تیزی سے پہلے انخلا کی وارننگ جاری کی۔ یہ پیش رفت اسرائیل کی جانب سے لبنان میں 26 سالوں کے دوران کی جانے والی سب سے گہری دراندازی سمجھی جا رہی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 900 سال پرانے بیوفورٹ قلعے اور جنوبی لبنان میں اس کی تزویراتی پہاڑی پر اسرائیل کا قبضہ 26 سالوں میں ملک میں اس کی سب سے گہری پیش قدمی ہے۔ قلعے کے گرد و نواح سے گولہ باری کی آوازیں سنائی دیں اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جہاں اے ایف پی نے حملہ آور فوج کا پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔ یہ وہی قلعہ ہے جسے اسرائیلی افواج نے اپنی سابقہ دو دہائیوں پر محیط قبضے کے دوران ایک اہم اڈے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس تاریخی مضبوط گڑھ پر قبضے کی تصدیق کی، جو جنوبی لبنان کے وسیع مناظر پر حاوی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی کارروائیوں میں توسیع کی گئی ہے، جسے لبنان کے وزیر اعظم نے “جلی ہوئی زمین” کی پالیسی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
وزیر دفاع کاٹز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا، “بیوفورٹ کی بہادرانہ جنگ کے چوالیس سال بعد، اور پہلی لبنان جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی یاد میں آج کے دن، ہماری افواج بیوفورٹ کی چوٹی پر واپس آ گئی ہیں اور ایک بار پھر وہاں اسرائیلی پرچم لہرایا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ہدایت پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی، دریائے لیتانی کو عبور کیا، اور بیوفورٹ رج پر قبضہ کر لیا۔ کاٹز کے مطابق، یہ گلیلی کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقامات میں سے ایک ہے۔






