لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف نہیں ہے، تاہم اس ضمن میں وقت اور حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں منعقدہ ایک اہم ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ایک عرصے سے بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ بہتر حکمرانی اور عوام تک سہولیات کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اس عمل میں سیاسی اتفاق رائے اور قومی مفادات کو ترجیح دینے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے ختم نبوت کے عقیدے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس کے تحفظ کے لیے امت مسلمہ کی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، معاشی چیلنجز اور حکومتی پالیسیوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں کسی بھی قسم کی تقسیم یا انتشار ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔




